Thursday, 17 March 2022

پرانی قبر پر دوبارہ مٹی ڈالنا کیسا؟

پرانی قبر پر دوبارہ مٹی ڈالنا کیسا؟


سوال

الســلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
 حضور ایک عرض ہے کہ 
مثلا ۔ کسی کے قبر کی مٹی دھنس جاتی ہے تو لوگ قبر پر مٹی ڈال دیتے ہیں۔ 
کیا یہ صحیح ہے علمائے کرام جواب عنایت فرمائیں اور شکریہ کا موقع ادا کریں ۔ 
آپ کا خادم محمد محبوب عالم گورکھپور

__________________________________


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالی دھنسی ہوئی قبر پر مٹی ڈالنا بیشک جائز ہے مگر تختہ یا کوئی چیز بچھا کر مٹی ڈالیں تاکہ میت کی بے حرمتی نہ ہو اور قبروں کا نشان بھی محفوظ رہے کہ یہ احترام مسلم ہے اور جائز ودرست ہے بعض جگہ شب براءت یا شب قدر میں ویسے مٹی ڈال کر دبا تے ہیں یہ جائز نہیں ہے کہ اس سے میت کو اذیت پہنچتی ہے،، اسی کے مثل آپ کے مسائل صفحہ ۲۱۳ و دیگر کتب فتاوی وفقہ میں ہے


واللہ تعالی اعلم بالصواب 

کتبہ:- مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ و لوالدیہ
برولیا راۓ بریلی اترپردیش

موبائل نمبر
918171506809+
ای میل :- mohdiftikharraza3541@gmail.com


---------------------------------------




Saturday, 27 March 2021

‎اکیلے نماز پڑھتے ہوئے اقامت کہنا ‏

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

-----------------سوال------------------
       
      کیا گھر میں یا مسجد میں اکیلے نماز پڑھتے ہوئے اقامت کہنا ضروری ہے؟

سائل :- ابو الکلام فتحپور

---------------------------------------

و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

-----------------جواب------------------

       صورت مسؤلہ میں جواب یہ ہے کہ مسجد محلہ میں نماز ہوجانے کے بعد اگر کوئی اکیلا نماز پڑھتا ہے تو اسے آذان و اقامت کہنا مکروہ ہے اور مقیم اگر شہر میں اپنے گھر میں نماز ادا کرے تو آذان اقامت دونوں چھوڑنا جائز ہے کہ مسجد محلہ کی آذان اقامت اس کے لئے کافی ہے مگر یہ حکم اس جگہ کے لئے ہے جہاں محلہ کی مسجد میں آذان اقامت ہوتی ہے اور جہاں مسجد ہی نہ ہو یا مسجد تو ہو مگر اس میں آذان اقامت نہ ہوتی ہو تو اس جگہ اپنے گھر نماز پڑھنے والے کو آذان اقامت دونوں چھوڑنا یا صرف آذان پر اکتفا کرنا مکروہ ہے البتہ صرف اقامت پر اکتفا کرنا جائز ہے ۔۔

فتاوٰی فقیہ ملت جلد اول ص 93

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:- مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ و لوالدیہ
برولیا راۓ بریلی اترپردیش

موبائل نمبر
918171506809+
ای میل :- mohdiftikharraza3541@gmail.com


---------------------------------------
 DONATE YOUR ZAKAT & SADAQT TO MADRAS JAMIATUL BANAAT 👇👇

A/C NO. 20338100003975
IFSC CODE :- BARB0RASULP
BANK OF BARODA
MO IFTIKHAR RAZA
---------------------------------------

Friday, 26 March 2021

کیا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی حرام ہے؟ : ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی گناہِ کبیرہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
------------------سوال-----------------

        کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کیا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی گناہِ کبیرہ اور حرام ہے ؟ مفصل جواب عنایت فرمائیں۔

__________________________________

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
-----------------جواب------------------

       شریعتِ اسلامیہ اور عقلِ انسانی اس بات پر متفق ہیں ہر وہ عمل جس سے اپنی یا کسی دوسرے کی جان کو خطرہ ہو یا نقصان کا اندیشہ ہو اس کا ارتکاب ممنوع ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلاَ تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ.
ترجمہ:-
اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔

البقره، 2: 194

       ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا ایسے ہی جرم کا ارتکاب کر رہا ہوتا ہے جس میں اس کی اپنی جان جا سکتی ہے یا اس کی وجہ سے کسی دوسرے مسافر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس لیے ٹریفک قوانین کی پاسداری ضروری ہے تاکہ سڑک ہر ایک کے لیے محفوظ رہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف وزی یا راستوں پر کوئی ایسی حرکت جو راہگیروں کی پریشانی کا باعث ہو‘ جیسے تیز رفتاری، سڑک پر ریس لگانا، خطرناک طریقہ سے اُورٹیک کرنا، بلاضرورت تیز ہارن بجانا، اشارہ توڑنا، غیرقانونی روکاوٹیں کھڑی کرنا، غیرقانونی سپیڈ بریکرز لگانا اور وَن ویلنگ وغیرہ قانوناً جرم اور شرعاً گناہ ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔ 

کتبہ:- مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ و لوالدیہ
برولیا راۓ بریلی اترپردیش

موبائل نمبر
918171506809+
ای میل :- mohdiftikharraza3541@gmail.com


---------------------------------------
 DONATE YOUR ZAKAT & SADAQT TO MADRAS JAMIATUL BANAAT 👇👇

A/C NO. 20338100003975
IFSC CODE :- BARB0RASULP
BANK OF BARODA
MO IFTIKHAR RAZA
---------------------------------------





Wednesday, 24 March 2021

شعبان کی پندرھویں شب کے مسنون اعمال ‏

---------------------------------------
--------------شعبان المعظم--------------

---------------------------------------
   
  شعبان کی پندرہویں شب”شب برأت“کہلاتی ہے۔یعنی وہ رات جس میں مخلوق کو گناہوں سے بری کردیاجاتاہے۔ ۔تقریبًا دس صحابہ کرامؓ سے اس رات کے متعلق احادیث منقول ہیں۔

        حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ” شعبان کی پندرہویں شب کومیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی آرام گاہ پر موجود نہ پایا تو تلاش میں نکلی دیکھاکہ آپ جنت البقیع کے قبرستان میں ہیں پھرمجھ سے فرمایا کہ آج شعبان کی پندرہویں رات ہے ،اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اورقبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے بھی زیادہ گنہگاروں کی بخشش فرماتاہے۔“دوسری حدیث میں ہے”اس رات میںاس سال پیداہونے والے ہربچے کانام لکھ دیا جاتا ہے ،اس رات میں اس سال مرنے والے ہرآدمی کانام لکھ لیا جاتا ہے،اس رات میں تمہارے اعمال اٹھائے جاتے ہیں،اورتمہارا رزق اتارا جاتا ہے۔

        اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ” اس رات میں تمام مخلوق کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے سات اشخاص کے وہ یہ ہیں۔مشرک،والدین کا نافرمان، کینہ پرور،شرابی،قاتل،شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا اورچغل خور،ان سات افرادکی اس عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی جب تک کہ یہ اپنے جرائم سے توبہ نہ کرلیں۔


         حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں منقول ہے کہ اس رات میں عبادت کیا کرو اور دن میں روزہ رکھا کرو،اس رات سورج غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اوراعلان ہوتاہے کون ہے جوگناہوں کی بخشش کروائے؟کون ہے جورزق میں وسعت طلب کرے؟کون مصیبت زدہ ہے جو مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرناچاہتاہو؟

ان احادیث کریمہ اورصحابہ کرام ور بزرگانِ دین کے عمل سے ثابت ہوتاہے کہ اس رات میں تین کام کرنے کے ہیں:

۱۔قبرستان جاکر مردوں کے لئے ایصال ثواب اورمغفرت کی دعا کی جائے۔
۲۔اس رات میں نوافل،تلاوت،ذکر و اذکار کا اہتمام کرنا۔اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نفل ایک ایسی عبادت ہے جس میں تنہائی مطلوب ہے یہ خلوت کی عبادت ہے، اس کے ذریعہ انسان اللہ کا قرب حاصل کرتاہے۔
نوافل کی جماعت اور مخصوص طریقہ اپنانا درست نہیں ہے۔یہ فضیلت والی راتیں شور و شغب اورمیلے بلکہ گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کراللہ سے تعلقات استوار کرنے کے قیمتی لمحات ہیں ان کوضائع ہونے سے بچائیں۔

۳۔دن میں روزہ رکھنا بھی مستحب ہے، ایک تواس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اوردوسرایہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہرماہ ایام بیض(۱۳،۱۴،۱۵) کے روزوں کااہتمام فرماتے تھے ،لہذااس نیت سے روزہ رکھاجائے توموجب اجروثوب ہوگا۔باقی اس رات میں پٹاخے بجانا،آتش بازی کرنا یہ سب خرافات اوراسراف میں شامل ہیں۔شیطان ان فضولیات میں انسان کومشغول کرکے اللہ کی مغفرت اورعبادت سے محروم کر دینا چاہتا ہے اوریہی شیطان کااصل مقصدہے۔

بہر حال اس رات کی فضیلت بے اصل نہیں ہے اور سلف صالحین نے اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھایا ہے۔

اللّٰہ و رسولہ اعلم بالصواب
---------------------------------------
کتبہ:- مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ و لوالدیہ
برولیا راۓ بریلی اترپردیش

موبائل نمبر
918171506809+
ای میل :- mohdiftikharraza3541@gmail.com
---------------------------------------
 DONATE YOUR ZAKAT & SADAQT TO MADRAS JAMIATUL BANAAT 👇👇

A/C NO. 20338100003975
IFSC CODE :- BARB0RASULP
BANK OF BARODA
MO IFTIKHAR RAZA
---------------------------------------

کیا میت کو بوسہ دینا جائز ہے؟ ‏

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

-------------------سوال----------------
       کیا میت کو بوسہ دینا جائز ہے؟ وہ غسل سے پہلے ہو یا بعد میں؟ اور کیا بیوی اپنے شوہر کی میت کو بوسہ دے سکتی ہے؟ برائے مہربانی دلیل سے جواب دیں.

سائل:- حافظ ابو الکلام فتحپور

-----------------جواب------------------

         میت کو بوسہ دینا جائز ہے یعنی کسی شخص کو وفات کے بعد بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے چاہے اسکے اپنے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار، مرد مرد میت کو اور عورتیں عورت میت کو بوسہ دے سکتی ہیں، اسی طرح مرد اپنی محرم خواتین والدہ،بہن، بیٹی یا بیوی وغیرہ کی میت کو بوسہ دے سکتے ہیں اور خواتین اپنے محرم مردوں یعنی باپ، شوہر، بھائی بیٹا وغیرہ کی میت کو بوسہ دے سکتی ہیں، اور یہ بوسہ غسل سے پہلے بھی دینا جائز ہے اور غسل کے بعد بھی،کیونکہ مسلمان نا مرنے سے پہلے نجس ہوتا ہے اور نا مرنے کے بعد، اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون کو غسل سے پہلے بوسہ دیا تھا ۔

جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:-

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ. حتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ.

ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ عثمان بن مظعون ؓ کا بوسہ لے رہے تھے اور ان کا انتقال ہوچکا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
سنن الترمذی/الجنائز ١٤ (٩٨٩)،
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٧ (١٤٥٦)،

کتبہ:- مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ و لوالدیہ
برولیا راۓ بریلی اترپردیش

موبائل نمبر
918171506809+
ای میل :- mohdiftikharraza3541@gmail.com


Monday, 22 March 2021

عورت اور مرد کے کفن میں کیا فرق ہے اور کفن پہنانے کا طریقہ کیا ‏ہے؟

  

 ⭐⭐السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ⭐⭐

----------------- سوال ---------------- 
! عورت اور مرد کے کفن میں کتنے کپڑے ہوتے ہیں؟ اور کفن پہنانے کا طریقہ بھی بتا دیں۔

سائل :- امان اللہ خان قادری

🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸

  ⭐⭐و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ⭐⭐

----------------- جواب ----------------

مرد کے کفن میں تین کپڑے ہوتے ہیں:

لفافہ
ازار بند
قمیص

عورت کے لیے مذکورہ تین کے علاوہ دو مزید دو چادریں ہوتی ہیں:-
سینہ بند
اوڑھنی

مرد و عورت کے کفن کی تفصیل درج ذیل ہے:-
لفافہ (چادر): میت کے قد سے اتنی بڑی ہو کہ دونوں طرف سے باندھی جاسکے

ازار بند: سر کی چوٹی سے پاؤں تک ہوگی۔ یہ چادر لفافے سے چھوٹی ہوتی ہے، کیونکہ لفافے کو دونوں طرف سے باندھنے کے لیے زائد مطلوب ہوتی ہے

قمیص (کفنی): کندھے سے گھٹنے کے نیچے تک ہوتی ہے، یہ آگے اور پیچھے دونوں طرف برابر ہوتی ہے اور اس میں چاک اور آستینیں نہیں ہوتیں۔

اوڑھنی: تین ہاتھ یعنی ڈیڑھ گز کی ہوتی ہے۔

سینہ بند: چھاتی سے ناف تک ہوگی، بہتر ہے کہ ران تک ہو۔

     کفن کی چادریں اتنی چھوٹی نہ ہوں کہ میت پر پوری نہ ہو پائیں اور نہ اِتنی زیادہ ہوں کہ اسراف میں داخِل ہو جائیں۔ اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ تھان میں سے حسبِ ضرورت کپڑا کاٹاجائے۔ کفن اچھا ہونا چاہیے یعنی مرد عیدین و جمعہ کے لیے جیسے کپڑے پہنتا تھا اور عورت جیسے کپڑے پہن کر میکے جاتی تھی ان کی قیمت کا ہونا چاہیے۔

------- کفن پہنانے کا مسنون طریق --------- 

         کفن پہنانے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ غسل دینے کے بعد آہستہ سے جسم کو کسی پاک کپڑے سے صاف کیا جائے گا تاکہ کفن گیلا نہ ہو۔ کفن کو اس طرح بچھایا جائے گا کہ پہلے لفافہ یعنی بڑی چادر، اس پر ازار بند اور اس کے اوپر قمیص کو رکھا جائے گا۔ اس کے بعد میت کو ان چادروں پر سیدھا لِٹایا جائے گا اور کفنی کو سر سے گزار کر پہنایا جائے گا۔ اب سر، داڑھی (اور داڑھی نہ ہو تو ٹھوڑی) اوربقیہ تمام جسم پر خوشبو لگائی جائے گی اور وہ اعضا جن پر سجدہ کیا جاتا ہے یعنی پیشانی، ناک، ہاتھوں، گھٹنوں اور قدموں پر کافور لگایا جائے گا۔ پھر ازار یعنی تہبند لپیٹا جائے گا، پہلے بائیں یعنی اُلٹی جانب سے پھر سیدھی جانب سے۔ پھر لفافہ بھی اِسی طرح پہلے بائیں یعنی اُلٹی جانب سے پھر سیدھی جانب سے لپیٹا جائے گا۔ اس کے بعد لفافہ کو سر اور پاؤں کی طرف سے گِرّہ لگائی جائے گی تاکہ اُڑنے کا اندیشہ نہ رہے۔ عورت کو قمیص پہنا کر سر کے بالوں کے دو حصے کر کے سینے پر ڈال دیا جائے گا، ایک حصہ دائیں جانب اور ایک حصہ بائیں جانب، اس کے بعد سر پر اور بالوں پر اوڑھنی ڈالی جائے گی۔ اس کو باندھا اور لپیٹا نہیں جائے گا۔ اس کے بعد ازار لپیٹا جائے گا اور سینہ بند باندھ کر چادر لپیٹی جائے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

کتبہ:- مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ و لوالدیہ

موبائل نمبر
918171506809+

کیا میک اپ پر وضو ہو جاتا ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
------------------سوال---------------- 

    کیا میک اپ پر وضو ہو جاتا ہے؟

سائل:- ابو الکلام فتحپور یو پی
---------------------------------------

 و علیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ

_-_-_-_-_-_-_-_- جواب _-_-_-_-_-_-_-

      اعضائے وضو پر اگر کسی چیز کی تہہ جمی ہو اور پانی جِلد تک نہ پہنچ پائے تو وضو نہیں ہوگا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

   يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ فَاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ وَإِن كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ مَا يُرِيدُ اللّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ.

اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کیلئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت (مجامعت) کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو (اندریں صورت) پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس (تیمم یہ ہے کہ) اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔

الْمَآئِدَة، 5: 6

اگر میک اپ میں صرف رنگ ہوں اور وہ اعضائے وضو تک پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ نہ ہوں تو میک اپ پر وضو ہو جائے گا۔ لیکن اگر میک اپ کی تہہ جمی ہو جو پانی کو اعضائے وضو کی جلد تک نہ پہنچنے دے تو میک اپ پر وضو نہیں ہوگا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

کتبہ :- مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی
 غفر لہ

موبائل نمبر
918171506809+

Sunday, 21 March 2021

کیا یومِ اساتذہ منانا شرعاً جائز ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

-----------------سوال------------------

       کیا 5 ستمبر کو یوم اساتذہ منانا جائز ہے؟ برائےکرم جواب عنایت فرمائیں

سائل: نعمت اللہ خان راۓ بریلی

---------------------------------------
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
----------------- جواب ----------------

        اگر کوئی تہوار یا قومی یا عالمی ایام منکراتِ شرعیہ سے خالی ہو اور اس کے غیر شرعی ہونے پر اطمنان ہو، تو اس میں شرکت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اساتذہ کی محنت اور عظمت کو اجاگر کرنے کے لیے پوری دنیا میں یومِ اساتذہ (Teacher's Day) منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد طلبہ میں اپنے اساتذہ کے لئے قدر و احترام کے جذبات کو پیدا کرنا ہوتا ہے، لیکن یہ جذبات وقتی نہیں بلکہ دائمی ہونے چاہئیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ماں باپ کے بعد کسی بھی انسان کا سب سے بڑا محسن اس کا استاذ ہوتا ہے، استاذ باپ کا درجہ رکھتا ہے۔ استاذ کا مقام بہت اونچا ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص جتنے اونچے مقام پر فائز ہوتا ہے، اسی نسبت سے اُس کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔استاذ میں ہمیشہ اپنے شاگردوں کے لئے باپ کی سی محبت و شفقت، اور شاگردوں میں بیٹوں اور بیٹیوں کی طرح اطاعت و فرماں برداری ہونی چاہئے۔ اگر ان ایام سے دونوں طرف یہ جذبات اجاگر ہوں تو اس طرح کے پروگرام اپنے مقصد میں کامیاب ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

کتبہ ✍️
مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ و لوالدیہ

موبائل نمبر
918171506809+

کیا خواتین گھروں میں‌ اذان دے سکتی ہیں؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال
          کیا کسی حدیث میں گھروں میں‌ اذان دینے کا حکم دیا گیا ہے؟ کیا گھروں‌ میں‌ خواتین بھی اذان دے سکتی ہیں؟ 
سائل:- احمد رضا کانپور
---------------------------------------
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

----------------جواب:------------------

           حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت اُم ورقہ بنت نوفل رضی اللہ عنہا غزوہ بدر کے موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض گزار ہوئیں کہ یارسول اﷲ! مجھے اپنے ساتھ غزوہ میں جانے کی اجازت دیجئے کہ مریضوں کی تیمارداری کروں، شاید ﷲتعالیٰ مجھے شہادت کا درجہ عطا فرما دے۔ فرمایا کہ تم اپنے گھر میں رہو، اﷲ تعالیٰ تمہیں شہادت مرحمت فرما دے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ اس بی بی کا نام شہیدہ پڑ گیا تھا، ان کے بارے میں مزید بتاتے ہیں کہ:

 الْقُرْآنَ فَاسْتَأْذَنَتْ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم أَنْ تَتَّخِذَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا فَأَذِنَ لَهَا قَالَ وَکَانَتْ قَدْ دَبَّرَتْ غُلَامًا لَهَا وَجَارِیَةً فَقَامَا إِلَیْهَا بِاللَّیْلِ فَغَمَّاهَا بِقَطِیفَةٍ لَهَا حَتَّی مَاتَتْ وَذَهَبَا فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَقَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ مَنْ کَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذَیْنِ عِلْمٌ أَوْ مَنْ رَآهُمَا فَلْیَجِئْ بِهِمَا فَأَمَرَ بِهِمَا فَصُلِبَا فَکَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبٍ بِالْمَدِینَةِ.

        اور اس نے قرآن پڑھا ہوا تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے گھر مؤذن رکھنے کی اجازت مانگی جو سرکار نے دیدی۔ اس بی بی نے ایک غلام اور باندی کو مدبر بنا کر رکھا ہوا تھا جنہوں نے رات کے وقت اس کے گلے میں چادر ڈال کر گلا گھونٹ کر مار دیا اور بھاگ گئے۔ صبح کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا: جس کو ان دونوں کا علم ہو یا جس نے انہیں دیکھا ہو تو انہیں پکڑ لائے۔ پھر آپ کے حکم سے ان کو سولی دی گئی اور یہ دونوں مدینہ منورہ میں پہلے مصلوب تھے۔

أبي داود، السنن، 1: 161، رقم: 591، 

ایک حویلی میں مؤذن اذان دیتا تھا اور حضرت ام ورقہ بنت نوفل عورتوں کی جماعت کرواتی تھیں جبکہ ہر گھر میں نماز کے لیے الگ سے اذان دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، مسجد میں ہونے والی اذان پر عورتیں گھر میں نماز باجماعت ادا کر سکتی ہیں۔ اگر مسجد میں عورتوں کے لیے باجماعت نماز کا اہتمام ہو تو مسجد میں جا کر بھی نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں۔ لہٰذا فرداً فرداً ہر گھر میں اذان دینا درست نہیں ہے کیونکہ اذان کا مقصد لوگوں کو باجماعت نماز کے لیے مسجد میں بلانا ہے اور عورت کے بطورِ مؤذن اذان دینے کی کوئی تاریخی نظیر نہیں ملتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ
برولیا راۓ بریلی اترپردیش

موبائل نمبر
+٩١٨١٧١٥٠٦٨٠٩

اذان سے پہلے درودِ پاک پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال
! اذان سے پہلے درود کیوں پڑھاجاتا ہے جبکہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اذان کا جواب دو پھر مجھ پر درود پڑھو اور پھر میرے لئے وسیلے کی دعا مانگو (اذان کی دعا) اور جو یہ سب کرے گا اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گی۔
سائل: امان اللہ کانپور

و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
     ---------------- جواب :--------------

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًاo

       بے شک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔

(الأحزاب، 33: 56)

اس حکم باری تعالیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درودوسلام بھیجنے کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں ہے اور نہ ہی اذان سے پہلے درودوسلام پڑھنے کی قرآن وحدیث میں کہیں ممانعت آئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سانا:

إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ.

جب تم مؤذن سے اذان سنو تو وہی کلمات کہو جو وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود پڑھو کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ پھر میرے لیے جنت میں ’’وسیلہ‘‘ کی دعا مانگو، کیونکہ وہ جنت کا ایک ایسا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا، اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں گا، اور جو شخص میرے لیے اس مقام کی دعا مانگے گا اس کے حق میں میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔

(مسلم، الصحيح، كتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعه ثم يصلي على النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثم يسأل الله له الوسيلة، 1: 509، الرقم: 738- أبوداود، السنن، كتاب الصلاة، باب ما يقول إذا سمع المؤذن، 1: 144، الرقم: 523، بيروت: دار الفكر)

اس حدیث مبارکہ میں اذان کے بعد درود پڑھنے کا حکم ہے لیکن پہلے پڑھنے کی ممانعت نہیں ہے۔ لہٰذا اذان سے پہلے پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ منع کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اگر کوئی پہلے پڑھ لے تو باعث برکت ہے نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہے لیکن بعد میں نہ پڑھنا حکمِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

کتبہ:- مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ
برولیا راۓ بریلی اترپردیش
موبائل نمبر
918171506809+

ہندؤوں کی ہولی کے موقع پر ان سے اظہار یکجھتی کرنا اور مبارکباد دینا


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سوال 1:ھندوؤں کے تہوار ہولی کے موقع پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا 
2:اس تہوار کے لیے مقدس ۔روحانی ۔spiritual. Holy کے الفاظ استعمال کرنا 
3:مذکورہ بالا الفاظ پر مشتمل sms ہندو برادری سے اظہار یکجہتی کی غرض سے کسی مسلمان کو بھیجنا 
4:جبکہ بھیجنے والے کا پختہ یقین ہے کہ اسلام حق ہے اور ہندومت باطل ہے
سائل: محمد علی کانپور

و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
جواب
کسی مسلمان کے لیئے ہندؤوں کی ہولی، دیوالی یا ان کے کسی اور مذہبی تہوار کے موقع پر ان سے اظہار یکجہتی کرنا ، اس کے لیئے مقدس یا روحانی کے الفاظ استعمال کرنا یا ہندؤوں کو اس کی مبارکباد دیناجائز نہیں ہے، چہ جائیکہ کسی مسلمان کو ایسے مواقع پر مبارکباد دی جائے یااس طرح کے پیغامات بھیجے جائیں ۔اوراگر ان کی تعظیم وتکریم اور ان کے ان تہواروں کی تحسین مقصود ہو تو کفر کا بھی اندیشہ ہے۔

واللہ اعلم
کتبہ : مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ
راۓ بریلی اترپردیش

موبائل نمبر
918171506809+


*🕳️ہندؤں کے تہواروں کی مٹھائی کھانا کیسا ہے*. ‏

*_◆ـــــــــــــــــــــ(💎⛲️💎)ــــــــــــــــــــــ◆_* 
  ☆ *_اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ_*☆
                *_ الســـــــــوال_*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں
 کہ غیر مسلموں کے تہواروں مثلا ہولی دیوالی میں اگر کسی ہندو نے کسی مسلمان کو اپنے تہوار میں مٹھائی وغیرہ کھلانے کے لئے بلایا یا اس نے تہوار کے دن مٹھائی وغیرہ مسلمان کے یہاں بھیج دی یا پھر مسلمان اپنی طبیعت سے جاکے کھا آیا تو اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مسلمان کا ہندو کے گھر جاکے مٹھائی کھانا یا ہندو کے تہوار کے دن بھیجی ہوئی مٹھائی لینا یا اپنی مرضی سے ہندو کے گھر مٹھائی وغیرہ یا اور کوئی چیز کھانا کیسا ہے؟ وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
*🔰سائل______👈 محمد سھیم پتہ ہردوئی*
*_◆ـــــــــــــــــــــ(💎⛲️💎)ــــــــــــــــــــــ◆_* *☆وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ☆*   
    _*📝 الجـواب بعـون المــلـک الوھـاب👇*_
*📃کفار جو اپنے تہواروں پر مٹھائی وغیرہ دیتے ہیں تو اس بارے میں عرض ہے کہ اس دن نہ لی جائے ہاں دوسرے دن لے سکتے ہیں لیکن تبرک سمجھ کر نہ لیں بلکہ مفت مال سمجھ کر لیں اور نہ لینا بہتر ہے*
*_◆ـــــــــــــــــــــ(💎⛲️💎)ــــــــــــــــــــــ◆_* 
 *حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن تحریر فرماتے ہیں۔*
*کافر اگر ہولی یا دیوالی کے دن مٹھائی دیں تو نہ لے ہاں اگر دوسرے روز دے تو لے لے مگر یہ نہ سمجھے کہ ان خبثاء کے تہوار کی مٹھائی ہے بلکہ "مال موذی نصیب غازی" سمجھے*
*(📚ملفوظات اعلٰی حضرت ح ١ ص ١٦٣*
*🎗️اور__________________👇*
*✒️حضور مفتی شریف الحق امجدی صاحب تحریر فرماتے ہیں*
*🍀مٹھائی پرشاد سمجھ کر نہ لے نہ پرشاد سمجھ کر لینا جاٸز، نہ پرشاد سمجھ کر کھانا جاٸز، بلکہ جو اسے پرشاد سمجھے یعنی اسے تبرک جانے اس پر توبہ اور تجدید ایمان اور اگر بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح لازم۔ ہاں بغیر پرشاد سمجھے اور روپیہ پیسہ ”مال موذی نصیب غازی “ سمجھ کر لینے میں کوئی حرج نہیں ۔ لیکن ان کی پوجا کے دن نہ لے*
*(📓فتاوی شارح بخاری ج ٣ ص ١٣٩ ۔*
▬☆★ــــ☆ـ▬۞▬ـ☆ـــــ★☆ـ▬*

                 *🍁اور_______¡¡*
 *👑اعلٰی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے سوال ہوا ہنود جو اپنے معبودان باطلہ کو ذبیحہ کے سوا اور قسم طعام وشیرنی وغیرہ چڑھاتے ہیں اور اسکا بھوگ یا پرشاد نام رکھتے ہیں اس کا کھانا شرعاً حلال ہے یا نہیں؟* 
*اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں حلال ہے۔ مگر مسلمان کو احتراز چاہئے ۔*
 *(📔فتاوی رضویہ ج ٩ص ٦*
*✧✧ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧*
*🌏اب رہا یہ سوال کہ ان کے ساتھ ان کے گھر جا کر کھانا کیسا ہے؟ ۔*
*💍تو اس بارے میں عرض ہے کہ اس کی اجازت نہیں ہے حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں👇*

*♂️ہندو کے ساتھ کھانا کھانے کا سوال بے معنی ہے۔ہندو کب اس کے ساتھ کھائے گا۔اور ایسا ہو تو اسےنہ چاہئے۔حدیث میں ہے:*
*📖لاتواکلوھم ولا تشاربواھم۔*
*💦نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ نہ ان کے ساتھ پانی پیو۔*
*✧✧ــــــــ★❀★★❀★ـــــــــ✧✧*
*🔍غیر مسلم چار قسم کے ہیں:کتابی،مجوسی،مشرک،مرتد،کتابی اگر کتابی ہو ملحد نہ ہوتو اس کا ذبیحۃ اور اس کے یہاں کا 

و الله تعالى اعلم

كتبه
مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی
راۓ بریلی اترپردیش

موبائل نمبر
918171506809+

گورمنٹی زمین پر مسجد بنانے کا حکم؟؟


السلام علیکم 
حضرت سوال یہ ہے کہ سرکاری زمین پر مسجد بنائی جاسکتی ہے کہ نہی ؟
جلدی جواب عنایت فرمائیں 
بڑی مہربانی ہوگی ۔
سائل : محمد شفیق القادری 
رجبی مدارگڑھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ 
بسم الله الرحمن الرحيم
 *جواب* صورت مسئولہ میں سرکاری زمین پر بغیر سرکار کی اجازت کے مسجد تعمیر کرنا شرعی قانونی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے اگر آپ مسجد سے متصل زمین کو مسجد میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے کیونکہ سرکاری زمین پر حکومت کی اجازت کے بغیر مسجد بنانے سے زمین سرکار کی ملکیت میں ہی رہے گی اور سرکار کو اس میں تصرف کرنے اور وہاں سے مسجد ہٹانے کا اختیار باقی رہے ایسا کرنے سے بعد میں تنازعات پیدا ہوتے ہیں اور بسا اوقات حکومت کی طرف سے ناجائز قبضہ ہٹانے کے لیے توڑ پھوڑ کی جاتی ہے جس سے اشتعال جنم لیتا ہے۔ اس لیے مسجد کی تعمیر صرف اس جگہ پر اور اتنی ہی جگہ پر کی جائے جتنی مسجد کے لیے خریدی گئی ہے، یا اسے کسی نے وقف کیا ہے۔

اس لیے اگر آپ سرکاری زمین پر مسجد بنانا چاہتے ہیں یا مسجد سے متصل سرکاری زمین کو مسجد میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو حکومت سے اس کی اجازت لیں یا زمین کی قیمت دے کر رضامندی سے خرید لیں حکومت کی اجازت کے بغیر مسجد یا وضو خانہ یا غسل خانہ بنانا جائز نہیں جیسا کہ درمختار میں ہے کہ " لا یجوز التصرف في مال غیرہ بلا إذنہ ولا ولایتہ "
 (الدر المختار مع الشامي کتاب الغصب / مطلب فیما یجوز من التصرف بمال الغیر ۹/۲۹۱ زکریا، الأشباہ والنظائر / الفن الثاني ۲/۴۴۴ إدارة القرآن کراچی) 

واللہ اعلم بالصواب
مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی
برولیا راۓ بریلی اترپردیش انڈیا

 (موبائل نمبر)

 918171506809+

مردوں کو بالوں میں ہیئر کیچ یا ہیئر پٹی لگانا کیسا ہے؟ ‏

السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسلئہ کے بارے میں کہ زید نے زلفیں رکھی ہوئی ہیں جو کہ ابھی چھوٹی ہیں تو کیا زید ہیئر کیچ یا ہیئر پٹی لگا سکتا ہے
جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی 

المستفتی :محمد عدنان خان  یو پی انڈیا
_____________________________________
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعون الملک الوھاب
زید کو اپنے بالوں میں ہیٸر کیچ یا ہیٸر پٹی لگانا جائز نہیں،کہ اس میں عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے
اور عورتوں سے مشابہت ناجائز و گناہ ہے اور ایسے مردوں پر حدیث میں لعنت آٸی ہے

جیساکہ حدیث شریف میں ہے
*(عن إبن عباس قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال)*

*(سنن ابی داٶد ص٥٦٦)*

والله تعالٰی اعلم بالصواب

*کتبـــــــــــــــــــــــــــہ*
 محمد افتخار رضا مرکزی خان قادری
برولیا راۓ بریلی اترپردیش انڈیا

مـــــوبائل نمـــــبر _(👇)
918171506809+


صح الجوابــ واللہ تعالیٰ اعلم
مولانا محمد افتخار رضا قادری مرکزی  غفر لہ
   برولیا راۓ بریلی یوپی انڈیا

AZHARI FATAWA ✍️

پرانی قبر پر دوبارہ مٹی ڈالنا کیسا؟

پرانی قبر پر دوبارہ مٹی ڈالنا کیسا؟ سوال الســلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  حضور ایک عرض ہے کہ  مثلا ۔ کسی کے قبر کی مٹی دھنس ج...