Monday, 22 March 2021

عورت اور مرد کے کفن میں کیا فرق ہے اور کفن پہنانے کا طریقہ کیا ‏ہے؟

  

 ⭐⭐السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ⭐⭐

----------------- سوال ---------------- 
! عورت اور مرد کے کفن میں کتنے کپڑے ہوتے ہیں؟ اور کفن پہنانے کا طریقہ بھی بتا دیں۔

سائل :- امان اللہ خان قادری

🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸

  ⭐⭐و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ⭐⭐

----------------- جواب ----------------

مرد کے کفن میں تین کپڑے ہوتے ہیں:

لفافہ
ازار بند
قمیص

عورت کے لیے مذکورہ تین کے علاوہ دو مزید دو چادریں ہوتی ہیں:-
سینہ بند
اوڑھنی

مرد و عورت کے کفن کی تفصیل درج ذیل ہے:-
لفافہ (چادر): میت کے قد سے اتنی بڑی ہو کہ دونوں طرف سے باندھی جاسکے

ازار بند: سر کی چوٹی سے پاؤں تک ہوگی۔ یہ چادر لفافے سے چھوٹی ہوتی ہے، کیونکہ لفافے کو دونوں طرف سے باندھنے کے لیے زائد مطلوب ہوتی ہے

قمیص (کفنی): کندھے سے گھٹنے کے نیچے تک ہوتی ہے، یہ آگے اور پیچھے دونوں طرف برابر ہوتی ہے اور اس میں چاک اور آستینیں نہیں ہوتیں۔

اوڑھنی: تین ہاتھ یعنی ڈیڑھ گز کی ہوتی ہے۔

سینہ بند: چھاتی سے ناف تک ہوگی، بہتر ہے کہ ران تک ہو۔

     کفن کی چادریں اتنی چھوٹی نہ ہوں کہ میت پر پوری نہ ہو پائیں اور نہ اِتنی زیادہ ہوں کہ اسراف میں داخِل ہو جائیں۔ اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ تھان میں سے حسبِ ضرورت کپڑا کاٹاجائے۔ کفن اچھا ہونا چاہیے یعنی مرد عیدین و جمعہ کے لیے جیسے کپڑے پہنتا تھا اور عورت جیسے کپڑے پہن کر میکے جاتی تھی ان کی قیمت کا ہونا چاہیے۔

------- کفن پہنانے کا مسنون طریق --------- 

         کفن پہنانے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ غسل دینے کے بعد آہستہ سے جسم کو کسی پاک کپڑے سے صاف کیا جائے گا تاکہ کفن گیلا نہ ہو۔ کفن کو اس طرح بچھایا جائے گا کہ پہلے لفافہ یعنی بڑی چادر، اس پر ازار بند اور اس کے اوپر قمیص کو رکھا جائے گا۔ اس کے بعد میت کو ان چادروں پر سیدھا لِٹایا جائے گا اور کفنی کو سر سے گزار کر پہنایا جائے گا۔ اب سر، داڑھی (اور داڑھی نہ ہو تو ٹھوڑی) اوربقیہ تمام جسم پر خوشبو لگائی جائے گی اور وہ اعضا جن پر سجدہ کیا جاتا ہے یعنی پیشانی، ناک، ہاتھوں، گھٹنوں اور قدموں پر کافور لگایا جائے گا۔ پھر ازار یعنی تہبند لپیٹا جائے گا، پہلے بائیں یعنی اُلٹی جانب سے پھر سیدھی جانب سے۔ پھر لفافہ بھی اِسی طرح پہلے بائیں یعنی اُلٹی جانب سے پھر سیدھی جانب سے لپیٹا جائے گا۔ اس کے بعد لفافہ کو سر اور پاؤں کی طرف سے گِرّہ لگائی جائے گی تاکہ اُڑنے کا اندیشہ نہ رہے۔ عورت کو قمیص پہنا کر سر کے بالوں کے دو حصے کر کے سینے پر ڈال دیا جائے گا، ایک حصہ دائیں جانب اور ایک حصہ بائیں جانب، اس کے بعد سر پر اور بالوں پر اوڑھنی ڈالی جائے گی۔ اس کو باندھا اور لپیٹا نہیں جائے گا۔ اس کے بعد ازار لپیٹا جائے گا اور سینہ بند باندھ کر چادر لپیٹی جائے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

کتبہ:- مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ و لوالدیہ

موبائل نمبر
918171506809+

No comments:

Post a Comment

AZHARI FATAWA ✍️

پرانی قبر پر دوبارہ مٹی ڈالنا کیسا؟

پرانی قبر پر دوبارہ مٹی ڈالنا کیسا؟ سوال الســلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  حضور ایک عرض ہے کہ  مثلا ۔ کسی کے قبر کی مٹی دھنس ج...