Wednesday, 24 March 2021

شعبان کی پندرھویں شب کے مسنون اعمال ‏

---------------------------------------
--------------شعبان المعظم--------------

---------------------------------------
   
  شعبان کی پندرہویں شب”شب برأت“کہلاتی ہے۔یعنی وہ رات جس میں مخلوق کو گناہوں سے بری کردیاجاتاہے۔ ۔تقریبًا دس صحابہ کرامؓ سے اس رات کے متعلق احادیث منقول ہیں۔

        حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ” شعبان کی پندرہویں شب کومیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی آرام گاہ پر موجود نہ پایا تو تلاش میں نکلی دیکھاکہ آپ جنت البقیع کے قبرستان میں ہیں پھرمجھ سے فرمایا کہ آج شعبان کی پندرہویں رات ہے ،اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اورقبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے بھی زیادہ گنہگاروں کی بخشش فرماتاہے۔“دوسری حدیث میں ہے”اس رات میںاس سال پیداہونے والے ہربچے کانام لکھ دیا جاتا ہے ،اس رات میں اس سال مرنے والے ہرآدمی کانام لکھ لیا جاتا ہے،اس رات میں تمہارے اعمال اٹھائے جاتے ہیں،اورتمہارا رزق اتارا جاتا ہے۔

        اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ” اس رات میں تمام مخلوق کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے سات اشخاص کے وہ یہ ہیں۔مشرک،والدین کا نافرمان، کینہ پرور،شرابی،قاتل،شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا اورچغل خور،ان سات افرادکی اس عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی جب تک کہ یہ اپنے جرائم سے توبہ نہ کرلیں۔


         حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں منقول ہے کہ اس رات میں عبادت کیا کرو اور دن میں روزہ رکھا کرو،اس رات سورج غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اوراعلان ہوتاہے کون ہے جوگناہوں کی بخشش کروائے؟کون ہے جورزق میں وسعت طلب کرے؟کون مصیبت زدہ ہے جو مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرناچاہتاہو؟

ان احادیث کریمہ اورصحابہ کرام ور بزرگانِ دین کے عمل سے ثابت ہوتاہے کہ اس رات میں تین کام کرنے کے ہیں:

۱۔قبرستان جاکر مردوں کے لئے ایصال ثواب اورمغفرت کی دعا کی جائے۔
۲۔اس رات میں نوافل،تلاوت،ذکر و اذکار کا اہتمام کرنا۔اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نفل ایک ایسی عبادت ہے جس میں تنہائی مطلوب ہے یہ خلوت کی عبادت ہے، اس کے ذریعہ انسان اللہ کا قرب حاصل کرتاہے۔
نوافل کی جماعت اور مخصوص طریقہ اپنانا درست نہیں ہے۔یہ فضیلت والی راتیں شور و شغب اورمیلے بلکہ گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کراللہ سے تعلقات استوار کرنے کے قیمتی لمحات ہیں ان کوضائع ہونے سے بچائیں۔

۳۔دن میں روزہ رکھنا بھی مستحب ہے، ایک تواس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اوردوسرایہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہرماہ ایام بیض(۱۳،۱۴،۱۵) کے روزوں کااہتمام فرماتے تھے ،لہذااس نیت سے روزہ رکھاجائے توموجب اجروثوب ہوگا۔باقی اس رات میں پٹاخے بجانا،آتش بازی کرنا یہ سب خرافات اوراسراف میں شامل ہیں۔شیطان ان فضولیات میں انسان کومشغول کرکے اللہ کی مغفرت اورعبادت سے محروم کر دینا چاہتا ہے اوریہی شیطان کااصل مقصدہے۔

بہر حال اس رات کی فضیلت بے اصل نہیں ہے اور سلف صالحین نے اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھایا ہے۔

اللّٰہ و رسولہ اعلم بالصواب
---------------------------------------
کتبہ:- مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ و لوالدیہ
برولیا راۓ بریلی اترپردیش

موبائل نمبر
918171506809+
ای میل :- mohdiftikharraza3541@gmail.com
---------------------------------------
 DONATE YOUR ZAKAT & SADAQT TO MADRAS JAMIATUL BANAAT 👇👇

A/C NO. 20338100003975
IFSC CODE :- BARB0RASULP
BANK OF BARODA
MO IFTIKHAR RAZA
---------------------------------------

No comments:

Post a Comment

AZHARI FATAWA ✍️

پرانی قبر پر دوبارہ مٹی ڈالنا کیسا؟

پرانی قبر پر دوبارہ مٹی ڈالنا کیسا؟ سوال الســلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  حضور ایک عرض ہے کہ  مثلا ۔ کسی کے قبر کی مٹی دھنس ج...