السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا میت کو بوسہ دینا جائز ہے؟ وہ غسل سے پہلے ہو یا بعد میں؟ اور کیا بیوی اپنے شوہر کی میت کو بوسہ دے سکتی ہے؟ برائے مہربانی دلیل سے جواب دیں.
سائل:- حافظ ابو الکلام فتحپور
-----------------جواب------------------
میت کو بوسہ دینا جائز ہے یعنی کسی شخص کو وفات کے بعد بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے چاہے اسکے اپنے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار، مرد مرد میت کو اور عورتیں عورت میت کو بوسہ دے سکتی ہیں، اسی طرح مرد اپنی محرم خواتین والدہ،بہن، بیٹی یا بیوی وغیرہ کی میت کو بوسہ دے سکتے ہیں اور خواتین اپنے محرم مردوں یعنی باپ، شوہر، بھائی بیٹا وغیرہ کی میت کو بوسہ دے سکتی ہیں، اور یہ بوسہ غسل سے پہلے بھی دینا جائز ہے اور غسل کے بعد بھی،کیونکہ مسلمان نا مرنے سے پہلے نجس ہوتا ہے اور نا مرنے کے بعد، اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون کو غسل سے پہلے بوسہ دیا تھا ۔
جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ. حتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ.
ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ عثمان بن مظعون ؓ کا بوسہ لے رہے تھے اور ان کا انتقال ہوچکا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
سنن الترمذی/الجنائز ١٤ (٩٨٩)،
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٧ (١٤٥٦)،
کتبہ:- مولانا محمد افتخار رضا خان قادری مرکزی غفر لہ و لوالدیہ
برولیا راۓ بریلی اترپردیش
موبائل نمبر
918171506809+
ای میل :- mohdiftikharraza3541@gmail.com
بارک اللہ فی علمی
ReplyDelete